Worksheetsحسن تعلیل۔تلمیح۔تضاد۔ مبالغہ
Total questions: 24
Worksheet time: 17mins
وہ فراق اور وہ وصال کہاں
وہ شب و روز وہ ماہ و سال
اس شعر میں صنعت ہے
تضاد
تشبیہ
تلمیع
مبالغہ
ہو گئے مضحمل قویٰ غالب
ان عناصر میں اعتدال کہاں
درج بالا شعر میں شاعر اظہار کر رہے ہیں
اہنی محبت کی کمی کا
اپنے محبوب کے قوی ہونے کا
اپنی جسمانی طاقت کےکم ہونے کا
اپنی بد قسمتی کا
اگر کسی سے مراسم بڑھانے لگتے ہیں
ترے فراق کے دکھ یاد آنے لگتے ہیں
یہ شعر شعری اصطلاح کے مطابق ہے
مقطع
مطلع
حسن مطلع
بیت الغزل
پھٹ چکا جب سے گریبان تب سے
ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہی
درج بالا شعر میں بیان کی گئی ہے کیفیت
مایوسی کی
بے مروتی کی
محبت کی
جنون کی
سو گئے لوگ اس حویلی کے
ایک کھڑکی مگر کھلی ہے ابھی
اس شعر میں بیان کی گئی ہے
امید کی کیفیت
محبت کی کیفیت
بیزاری کی کیفیت
ان میں سے کوئی نہیں
چارہ سازوں سے الگگ میرا معیار ہے کہ میں
زخم کھاؤں گا تو کچھ اور سنور جاؤں گا
اس شعر میں نظر آتی ہے
بہادری
رجائیت پسندی
دکھ کی کیفیت
گلہ کی کیفیت
نہ کہیں جہاں میں اماں ملی جو اماں ملی تو کہاں ملی
مرے جرم خانہ خراب کو ترے عفو بندہ نواز میں میں
اس میں شاعر مخاطب ہیں
اپنے آپ سے
محبوب سے
بندوں سے
اللہ سے
میں جو بولا تو کہا کہ یہ آواز
اسی خانہ خراب کی سی ہے
اس میں بیان کیا ہے
شاعر کی محبت کو
محبوب کی محبت کو
شاعر کی شکستہ حالی کو
شاعر کی آواز کو
ردیف ہے
وہ لفظ یا الفاظ
جو بار بار آئے
جو قافیہ کے بعد دہرائے جائیں
جو متضاد ہوں
جو ہم آواز ہوں
شینشاہ غزل ہیں
علامہ اقبال
داغ
میر درد
میر تقی میر
NAME
CLASS /SEC
وہ فراق اور وہ وصال کہاں
وہ شب و روز وہ ماہ و سال
اس شعر میں صنعت ہے
تضاد
تشبیہ
تلمیع
مبالغہ
ہو گئے مضحمل قویٰ غالب
ان عناصر میں اعتدال کہاں
درج بالا شعر میں شاعر اظہار کر رہے ہیں
اہنی محبت کی کمی کا
اپنے محبوب کے قوی ہونے کا
اپنی جسمانی طاقت کےکم ہونے کا
اپنی بد قسمتی کا
اگر کسی سے مراسم بڑھانے لگتے ہیں
ترے فراق کے دکھ یاد آنے لگتے ہیں
یہ شعر شعری اصطلاح کے مطابق ہے
مقطع
مطلع
حسن مطلع
بیت الغزل
پھٹ چکا جب سے گریبان تب سے
ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہی
درج بالا شعر میں بیان کی گئی ہے کیفیت
مایوسی کی
بے مروتی کی
محبت کی
جنون کی
سو گئے لوگ اس حویلی کے
ایک کھڑکی مگر کھلی ہے ابھی
اس شعر میں بیان کی گئی ہے
امید کی کیفیت
محبت کی کیفیت
بیزاری کی کیفیت
ان میں سے کوئی نہیں
چارہ سازوں سے الگگ میرا معیار ہے کہ میں
زخم کھاؤں گا تو کچھ اور سنور جاؤں گا
اس شعر میں نظر آتی ہے
بہادری
رجائیت پسندی
دکھ کی کیفیت
گلہ کی کیفیت
نہ کہیں جہاں میں اماں ملی جو اماں ملی تو کہاں ملی
مرے جرم خانہ خراب کو ترے عفو بندہ نواز میں میں
اس میں شاعر مخاطب ہیں
اپنے آپ سے
محبوب سے
بندوں سے
اللہ سے
میں جو بولا تو کہا کہ یہ آواز
اسی خانہ خراب کی سی ہے
اس میں بیان کیا ہے
شاعر کی محبت کو
محبوب کی محبت کو
شاعر کی شکستہ حالی کو
شاعر کی آواز کو
ردیف ہے
وہ لفظ یا الفاظ
جو بار بار آئے
جو قافیہ کے بعد دہرائے جائیں
جو متضاد ہوں
جو ہم آواز ہوں
شینشاہ غزل ہیں
علامہ اقبال
داغ
میر درد
میر تقی میر
NAME
CLASS /SEC
