NEW
Font size
WorksheetsUrdu Quiz 08
Total questions: 15
Worksheet time: 8mins
مولانا ابوالکلام آزاد کی پیدائش
مکہ مکرمہ 1988
مکہ مکرمہ1888
مدینہ منورہ۔ 1988
مدینہ منورہ۔ 1888
مولانا ابوالکلام آزاد کی تصنیف نہیں ہے
کاروان خیال
غبار خاطر
شہر درد
خطبات آزاد
آزاد ہنوستان کے پہلے وزیر تعلیم رہ چکے ہیں
مولانا الطاف حسین حالی
مولانا ابوالکلام آزاد
مولانا شبلی نعمانی
مولانا ابو الحسن
مرکزی حکومت نے مولانا ابوالکلام کی یوم پیدائش یعنی11 نومبر کو کیا منانے کا اعلان کیا ہے
یوم دفاع
یوم اساتذہ
یوم تعلیم
یوم اطفال
عدل و انصاف کا سب سے بہتر ذریعہ کس کے ہاتھ میں ہے
منصف گورنمنٹ
نا پسندیدہ گورنمنٹ
نا اِنصاف گورنمنٹ
انتقامی گورنمنٹ
اس کی وجہ سے عہدِ قدیم کی برائیاں مٹ گئیں
زمانہ کے شباب
زمانہ کے علماء
زمانہ کے انقلاب
زمانہ کے اِنصاف
تاریخ میں آج بھی اس بات کا ماتم کیا جاتا ہے
بادشاہوں کی گستاخیوں
راجاؤں کے کارناموں
عدالت کی کاروائیوں
عدالت کی نا انصافیوں
مولانا ابوالکلام آزاد کے مطابق ہر فرد اور ہر قوم کا پیدائشی حق کیا ہے؟
غلام رہنا
خوش رہنا
آزاد رہنا
ترقی کرنا
مولانا ابوالکلام آزاد انکی محکومی سے ملک و قوم کو نجات دلانا چاہتے تھے
انگریزوں کی
مغلوں کی
فرانسیسیوں کی
منگولوں کی
عدالت کا اختیار یہ ہے
ایک طاقت ہے جو نا انصافی کے لئے استعمال کی جاتی ہے
ایک طاقت ہے جو مالداروں کے لئے استعمال کی جاتی ہے
ایک طاقت ہے جو پولیس کے لئے استعمال کی جاتی ہے
ایک طاقت ہے جو انصاف اور ناانصافی دونوں کے لئے استعمال کی جاتی ہے
قول۔ : کہی ہوئی بات
_______________خول
کپڑا
مغز
دانہ
چھلکا
سر : اسرار
______حق
حقائق
حقوق
حقیقت
حقیقی
انگریزی گورنمنٹ کے متعلق مولانا ابوالکلام آزاد نے یہ جملہ نہیں کہا
موجودہ گورنمنٹ قابل اعتماد ہے
موجودہ گورنمنٹ ظالم ہے
مجھ سے کیوں یہ توقع کی جاتی ہے کہ انگریزی گورنمنٹ کو اس کے اصلی نام سے نہ پکاروں
میں سیاہ کو سفید کہنے سے انکار کرتا ہوں
مولانا ابوالکلام آزاد کے سامنے فرض کی دو راہیں یہ ہیں
گورنمنٹ اِنصاف کرنے سے باز آ جائے
گورنمنٹ حق ادا کرنے سے باز آ جائے
گورنمنٹ نا انصافی اور حق تلفی سے باز آ جائے
گورنمنٹ عوّام پر ظُلم و ستم ڈھائے
"ہمارے حصے میں مجرموں کا کٹہرا آیا اور تمہارے حصے میں مجسٹریٹ کی کرسی آئی
متن کے حوالے سے ناموزوں جملہ کی نشاندھی کیجیئے
یہ جملہ مولانا ابوالکلام آزاد کی تقریر قول فیصل سے ماخوذ ہے
یہ جملہ انگریزوں نے ہندوستانیوں سے کہا
یہ جملہ مولانا ابوالکلام آزاد نے انگریزی گورنمنٹ سے کہا
یہ جملہ مولانا ابوالکلام آزاد نے اس وقت کہا جب انہیں مجرم بنا کر کٹہرا کی کھڑا کر دِیا گیا تھا
