NEW
Font size
WorksheetsQUIZ09
Total questions: 15
Worksheet time: 8mins
نثری ادب کی مقبول صنف ہے
افسانہ
انشائیہ
ڈراما
مزاحیہ مضمون
زہرہ جمال کی پیدائش
1931 ممبئی
1831 ممبئی
1936 بنگلور
1836 بنگلور
افسانہ درشتی یہ پیغام دیتاہے
فرقہ وارانہ فسادات پھیلانے
فرقہ پرستی کی رحمت کو دور کرنے
فرقہ پرستی کو عام کرنے
فرقہ پرستی کی لعنت دور کرنے اور قومی یکجہتی کا پرچم لہرانے
الیکشن کی کونسی متیگ تھی؟
پہلی
اہم
آخری
فکر مند
پریسپل کی وصیت کے مطابق آنکھیں کس کو دی گئیں؟
بلڈ بینک
آئے بینک
دوست کو
پارٹی والوں کو
ودیا چرن کے مطابق تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے
پیچھے ہٹنا
آگے بڑھنا
ساتھ چلنا
دھوکا دینا
آپریشن کے بعد ودیا چرن جی تقریر کرنے آئے تو پرستار پر جوش نظر آ رہے تھے کیونکہ
ہندو اور مسلمان دونوں میں جھگڑا ہو گیا تھا
رام مندر اور بابری مسجد کا فیصلہ ہونے والا تھا
پارٹی الیکشن جیتنے والی تھی
پارٹی کے خاص و عام جمع تھے
آنکھیں کس نے دان کی تھیں؟
ودیا چرن جی
زہرہ جمال
بھرت نارائن
مولانا رجب
ودیا چرن جی کی تقریر کا جواب کوں دِیا کرتاتھا
مولانا رجب
ودیا چرن جی
بھرت نارائن
زہرہ جمال
ایک آنکھ سے دیکھنا اس محاورے کیا مطلب یہ ہے
ایک ہی آنکھ سے دیکھنا
نا اتفاقی کرنا
نا انصافی کرنا
سب کو یکساں سمجھنا
پرنسپل بھرت نارائن کی ساری زندگی اس كام میں گزری
چغلی کرنےاور گالیاں دینے میں
تاریخِ پڑھنے آور پڑھانے میں
انگریزی پڑھنے آور پڑھانے میں
بیکار وقت گزاری میں
بھرت نارائن کی روحِ مسکرا رہی تھی کیوں کہ
زہرہ جمال افسانہ نگاری میں مشغول تھے
ودیا چرن جی ان کی درشتی اپنا چکے تھے
مولانا رجب تقریر کا جواب دے رہے تھے
پارٹی کے خاص و عام جمع تھے
ملک بھر میں دھرم کے نام پر جھگڑا ہوتا رہےگا تو
ملک سر سبز و شاداب رہےگا
ملک بھر خوشیاں ہی خوشیاں ہونگی
معاشی ترقی ہو گی
معاشی جڑیں اُکھڑ جائینگی
ودیا چرن جی کوں تھے؟
نرم اور سادہ مزاج انسان تھے
دلدار اور قوم کے خدمت گزار تھے
خوش مزاج انسان تھے
بنیاد کٹر پرست انسان تھے
خدا ایک ہے اور ہم اس کے بندے بھی ایک ہیں
متن کے حوالے سے ناموزوں جملہ کونسا ہوگا؟
یہ جملہ افسانہ درشتی سے ماخوذ ہے
یہ جملہ مولانا رجب نے کہا
یہ جملہ مولانا رجب نے اس کی کہا جب ودیا چرن جی محبت بھرے بول بول رہےتھے
یہ جملہ ودیا چرن جی نے مولانا رجب کی باتوں کا جواب دیتے ہوئے کہا
