Search Header Logo
اردو قواعد صنائع و بدایع

اردو قواعد صنائع و بدایع

Assessment

Presentation

Other

10th Grade

Hard

Created by

Shazia Kanwal

Used 1+ times

FREE Resource

14 Slides • 0 Questions

1

​علم بدیع اور اقسام

تیار کردہ : شازیہ کنوّل

2

علم بدیع اور اس کی اقسام

بدیع کے معنی اچھوتے اور نادر کے ہیں علم بدیع کے ذریعے کلام میں اچھوتا پن لایا جاتا ہے اس سے کلام کی آرائش و زیبائش کی جاتی ہے اصطلاح میں بدیع اس علم کا نام ہے جس میں صنائع لفظی اور صنائع معنوی بیان کیے جاتے ہیں صنائع صنعت کی جمع ہے اس کے معنی ہنر ، کاریگری اور مہارت کے ہیں۔

3

صنائع لفظی

صنائع لفظی لفظوں کی شعبدہ بازی ہے اس سے لفظوں کے ہیر پھیر الٹ پلٹ اور نوک پلک سنوارنے کلام میں آرائش و زیبائش پیدا کی جاتی ہے ثنائے لفظی میں خوبی لفظوں سے پیدا کی جاتی ہے۔

4

صنائع لفظی کی اقسام
صنعت تجنیس

کلام میں ایسے دو لفظ لانا جو تلفظ میں تو ایک جیسے لیکن معنی کے لحاظ سے مختلف ہوں۔

تم رات کو نہ آئے جو اپنے قرار پر

یہ ظلم تم نے کیا کیا اس بے قرار پر

مذکورہ شعر میں قرار بامعنی وعدہ اور قرار بامعنی آرام استعمال ہوا ہے۔

5


صنعت اشتقاق

کلام میں ایسے الفاظ لانا جو ایک ہی مادے اور مصدر سے مشتق ہوں مثلا

وقت کی لوح غیر فانی ہے

حرف مٹی نہیں مٹانے سے

درج ذیل شعرمیں لفظ "مٹتے" اور پھر لفظ "مٹانے "کا استعمال ہوا ہے دونوں لفظوں کا مصدر مٹنا ہے

6


صنعت تکرار لفظی

تکرار لفظی کلام میں ایک ہی لفظ کو دو بار لانا مثلا

پتہ پتہ بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے

جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے

مذکورہ بالا شعر میں پتہ پتہ اور بوٹا بوٹا سےصنعت تکرار پیدا کی گئی ہیں

7


صنعت تضمین

کسی دوسرے شاعر کا کلام اپنی شاعری میں استعمال کرنا مثلا

غالب اپنا یہ عقیدہ ہے بقول ناسخ

آپ بے بہرہ ہے جو معتقد میر نہیں

مذکورہ بالا شعر کا دوسرا مصرع امام بخش ناسخ کا ہے جسے غالب نے تضمین کیا ہے

8


صنائع معنوی

اگر معنوں میں خوبی پیدا کر کے کلام کی خوبصورتی اور تاثیر میں اضافہ

کرنا ہو تو اسے ثنائے معنوی

کہتے ہیں۔

9


صنعت تضاد

کلام میں دو ایسے لفظ لانا جن کے معنی ایک دوسرے کی ضد ہوں صنعت تضاد کہلاتا ہے مثلا

صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے

عمر یوں ہی تمام ہوتی ہے

مذکورہ بالا شعر میں "صبح " اور "شام "ایک دوسرے کی ضد ہیں۔۔

10


صنعت ایہام

ایہام کے لفظی معنی ہیں وہم میں ڈالنا اصطلاح میں کسی عبارت یا شعر میں ایسا لفظ یا الفاظ استعمال کرنا جس کے دو معنی ہوں ایک قریب کے اور دوسرے بعید کے لیکن لکھنے والا دور کے معنی مراد لے مثلا

شب جو مسجد میں جا پھنسے مومن

رات کاٹی خدا خدا کر کے

اس شعر کے دوسرے مصرعے میں "رات کاٹی خدا خدا کر کے" میں ایہام ہے اس مصرعےکے جو فی الفور معنی ذہن میںآتے ہیں وہ یہ ہیں کہ ہم مسجد میں ساری رات اللہ ہو اللہ کا ورد کرتے رہے مگر شاعر یہ معنی مراد نہیں لے رہا خدا خدا کر کے رات کاٹنا سے اس کی مراد بڑی مشکل سے ہے اور یہ معنی بعید ہے۔

11


صنعت مراعات النظیر

کلام میں ایک لفظ کی نسبت سے ایسے دوسرے الفاظ استعمال کرنا جو اس لفظ سے تضاد کے علاوہ کوئی اور تعلق رکھتے ہوں

نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

اس شعر میں کشت( کھیتی) کے تعلق سے نم مٹی اور زرخیز کے الفاظ لائے گئے ہیں۔

12


صنعت لف و نشر

کلام میں پہلے دو یا دو سے زائد چیزوں کا ذکر کیا جائے اور پھر ان سے مناسبت اور تعلق رکھنے والی اتنی ہی چیزوں کا ذکر کیا جائے کلام میں پہلے جن چیزوں کا ذکر کیا جائے وہ لف اور بعد میں آنے والی چیزیں نشر کہلاتی ہیں مثلا

تیرےآزاد بندوں کی نہ یہ دنیا نہ وہ دنیا

یہاں مرنے کی پابندی وہاں جینے کی پابندی

اقبال نے شعر میں یہ دنیا کی مناسبت سے مرنے کی پابندی اور وہ دنیا کے تعلق سے جینے کی پابندی کا ذکر کیا ہے

13


صنعت حسن تعلیل

کلام میں کسی بات کی کوئی نئی اور انوکھی وجہ بیان کرنا جو اس کی اصل وجہ نہ ہو اسے شاعرانہ علبھی کہا جا سکتا ہے مثلا

اسی باعث سے یہ دایا طفل کو افیون دیتی ہے

کہتی ہو جائے لذت شناسا تلخی دوراں سے

عام طور پہ ہوتا ہے کہ دایاں بچے کو سلانے کے لیے فون کھلا دیتی ہے لیکن شاعر یہ وجہ بیان کرتا ہے کہ اصل میں دایاں بچے کو تلخی دوراں سے واقف کرانا چاہتی ہے۔

14


صنعت مبالغہ

کلام میں کسی وصف ، کیفیت یا حالت کو اس درجہ بڑھا چڑھا کر بیان کرنا کہ بادی نظر میں وہ ناممکن معلوم ہونے لگے مثلا

جو اس زور سے میر روتا رہے گا

تو ہمسایہ کاہے کو سوتا رہے گا۔

​علم بدیع اور اقسام

تیار کردہ : شازیہ کنوّل

Show answer

Auto Play

Slide 1 / 14

SLIDE