NEW
Font size
Worksheetsایک اردو تفہیم پانچویں اور چھٹی جماعت کے لیے
Total questions: 7
Worksheet time: 7mins
شاکر صاحب صبح ہی سے ہی گاڑی کی صفائی ستھرائی میں لگے ہوئے تھے اور اب دوپہر ہونے کو آ گئی تھی- ان کے تینوں بچے عاقب، فہد اور ہانیہ بھی ان کا ہاتھ بٹا رہے تھے- ان کی بیوی نسرین کچن میں کھانا بنانے میں مصروف تھی اور کبھی کبھی کھڑکی سے باہر جھانک کر انھیں بھی دیکھ لیتی تھی- کل انھیں صبح ہی صبح ایک لمبے سفر پر نکلنا تھا- بچوں کے اسکولوں کی چھٹیاں ہوگئی تھیں اور شاکر صاحب نے سوچا تھا کہ ان چھٹیوں میں وہ بچوں کو آبائی گھر لے جائیں گے جہاں بچوں کے ددھیالی اور ننھیالی رشتے دار رہا کرتے تھے- یہ ایک چھوٹا سا خوشحال نگر نامی شہر تھا اور تقریباً ڈھائی سو کلو میٹر کی دوری پر تھا- اس پروگرام کے بنتے ہی انہوں نے موبائلوں پر خوشحال نگر میں تمام رشتے داروں کو اپنی آمد کی اطلاع دے دی تھی- اس اطلاع سے نانا نانی اور دادا دادی کو تو خوشی ہوئی ہی تھی، دوسرے رشتے داروں نے بھی بڑی مسرت کا اظہار کیا تھا-
اس پیراگراف میں بچوں کے نام عاقب، راشد اور جمیلہ ہیں
اس پیراگراف میں بچوں کے نام عاقب، زاہد اور ہانیہ ہیں
اس پیراگراف میں بچوں کے نام عاقب، فہد اور ہانیہ ہیں
شاکر صاحب صبح ہی سے ہی گاڑی کی صفائی ستھرائی میں لگے ہوئے تھے اور اب دوپہر ہونے کو آ گئی تھی- ان کے تینوں بچے عاقب، فہد اور ہانیہ بھی ان کا ہاتھ بٹا رہے تھے- ان کی بیوی نسرین کچن میں کھانا بنانے میں مصروف تھی اور کبھی کبھی کھڑکی سے باہر جھانک کر انھیں بھی دیکھ لیتی تھی- کل انھیں صبح ہی صبح ایک لمبے سفر پر نکلنا تھا- بچوں کے اسکولوں کی چھٹیاں ہوگئی تھیں اور شاکر صاحب نے سوچا تھا کہ ان چھٹیوں میں وہ بچوں کو آبائی گھر لے جائیں گے جہاں بچوں کے ددھیالی اور ننھیالی رشتے دار رہا کرتے تھے- یہ ایک چھوٹا سا خوشحال نگر نامی شہر تھا اور تقریباً ڈھائی سو کلو میٹر کی دوری پر تھا- اس پروگرام کے بنتے ہی انہوں نے موبائلوں پر خوشحال نگر میں تمام رشتے داروں کو اپنی آمد کی اطلاع دے دی تھی- اس اطلاع سے نانا نانی اور دادا دادی کو تو خوشی ہوئی ہی تھی، دوسرے رشتے داروں نے بھی بڑی مسرت کا اظہار کیا تھا-
شاکر صاحب کی بیگم کا نام نسرین تھا
شاکر صاحب کی بیگم کا نام صائمہ تھا
شاکر صاحب کی بیگم کا نام جمیلہ تھا
شاکر صاحب صبح ہی سے ہی گاڑی کی صفائی ستھرائی میں لگے ہوئے تھے اور اب دوپہر ہونے کو آ گئی تھی- ان کے تینوں بچے عاقب، فہد اور ہانیہ بھی ان کا ہاتھ بٹا رہے تھے- ان کی بیوی نسرین کچن میں کھانا بنانے میں مصروف تھی اور کبھی کبھی کھڑکی سے باہر جھانک کر انھیں بھی دیکھ لیتی تھی- کل انھیں صبح ہی صبح ایک لمبے سفر پر نکلنا تھا- بچوں کے اسکولوں کی چھٹیاں ہوگئی تھیں اور شاکر صاحب نے سوچا تھا کہ ان چھٹیوں میں وہ بچوں کو آبائی گھر لے جائیں گے جہاں بچوں کے ددھیالی اور ننھیالی رشتے دار رہا کرتے تھے- یہ ایک چھوٹا سا خوشحال نگر نامی شہر تھا اور تقریباً ڈھائی سو کلو میٹر کی دوری پر تھا- اس پروگرام کے بنتے ہی انہوں نے موبائلوں پر خوشحال نگر میں تمام رشتے داروں کو اپنی آمد کی اطلاع دے دی تھی- اس اطلاع سے نانا نانی اور دادا دادی کو تو خوشی ہوئی ہی تھی، دوسرے رشتے داروں نے بھی بڑی مسرت کا اظہار کیا تھا-
ان کے رشتے دار جس شہر میں رہتے تھے اس کا نام امن آباد تھا
ان کے رشتے دار جس شہر میں رہتے تھے اس کا نام خوشحال نگر تھا
ان کے رشتے دار جس شہر میں رہتے تھے اس کا نام ملتان تھا
شاکر صاحب صبح ہی سے ہی گاڑی کی صفائی ستھرائی میں لگے ہوئے تھے اور اب دوپہر ہونے کو آ گئی تھی- ان کے تینوں بچے عاقب، فہد اور ہانیہ بھی ان کا ہاتھ بٹا رہے تھے- ان کی بیوی نسرین کچن میں کھانا بنانے میں مصروف تھی اور کبھی کبھی کھڑکی سے باہر جھانک کر انھیں بھی دیکھ لیتی تھی- کل انھیں صبح ہی صبح ایک لمبے سفر پر نکلنا تھا- بچوں کے اسکولوں کی چھٹیاں ہوگئی تھیں اور شاکر صاحب نے سوچا تھا کہ ان چھٹیوں میں وہ بچوں کو آبائی گھر لے جائیں گے جہاں بچوں کے ددھیالی اور ننھیالی رشتے دار رہا کرتے تھے- یہ ایک چھوٹا سا خوشحال نگر نامی شہر تھا اور تقریباً ڈھائی سو کلو میٹر کی دوری پر تھا- اس پروگرام کے بنتے ہی انہوں نے موبائلوں پر خوشحال نگر میں تمام رشتے داروں کو اپنی آمد کی اطلاع دے دی تھی- اس اطلاع سے نانا نانی اور دادا دادی کو تو خوشی ہوئی ہی تھی، دوسرے رشتے داروں نے بھی بڑی مسرت کا اظہار کیا تھا-
ان کے رشتے داروں کو ان کے آنے سے خوشی ہوئی یہ پیراگراف کے شروع میں تھا
ان کے رشتے داروں کو ان کے آنے سے خوشی ہوئی یہ پیراگراف کے درمیان میں تھا
ان کے رشتے داروں کو ان کے آنے سے خوشی ہوئی یہ پیراگراف کے آخر میں تھا
شاکر صاحب صبح ہی سے ہی گاڑی کی صفائی ستھرائی میں لگے ہوئے تھے اور اب دوپہر ہونے کو آ گئی تھی- ان کے تینوں بچے عاقب، فہد اور ہانیہ بھی ان کا ہاتھ بٹا رہے تھے- ان کی بیوی نسرین کچن میں کھانا بنانے میں مصروف تھی اور کبھی کبھی کھڑکی سے باہر جھانک کر انھیں بھی دیکھ لیتی تھی- کل انھیں صبح ہی صبح ایک لمبے سفر پر نکلنا تھا- بچوں کے اسکولوں کی چھٹیاں ہوگئی تھیں اور شاکر صاحب نے سوچا تھا کہ ان چھٹیوں میں وہ بچوں کو آبائی گھر لے جائیں گے جہاں بچوں کے ددھیالی اور ننھیالی رشتے دار رہا کرتے تھے- یہ ایک چھوٹا سا خوشحال نگر نامی شہر تھا اور تقریباً ڈھائی سو کلو میٹر کی دوری پر تھا- اس پروگرام کے بنتے ہی انہوں نے موبائلوں پر خوشحال نگر میں تمام رشتے داروں کو اپنی آمد کی اطلاع دے دی تھی- اس اطلاع سے نانا نانی اور دادا دادی کو تو خوشی ہوئی ہی تھی، دوسرے رشتے داروں نے بھی بڑی مسرت کا اظہار کیا تھا-
اس پیراگراف میں نانا نانی اور دادا دادی کا خاص طور پر ذکر ہوا
اس پیراگراف میں خالہ خالو اور ماموں ممانی کا خاص طور پر ذکر ہوا
اس پیراگراف میں چچا چچی اور تایا تائی کا خاص طور پر ذکر ہوا
شاکر صاحب صبح ہی سے ہی گاڑی کی صفائی ستھرائی میں لگے ہوئے تھے اور اب دوپہر ہونے کو آ گئی تھی- ان کے تینوں بچے عاقب، فہد اور ہانیہ بھی ان کا ہاتھ بٹا رہے تھے- ان کی بیوی نسرین کچن میں کھانا بنانے میں مصروف تھی اور کبھی کبھی کھڑکی سے باہر جھانک کر انھیں بھی دیکھ لیتی تھی- کل انھیں صبح ہی صبح ایک لمبے سفر پر نکلنا تھا- بچوں کے اسکولوں کی چھٹیاں ہوگئی تھیں اور شاکر صاحب نے سوچا تھا کہ ان چھٹیوں میں وہ بچوں کو آبائی گھر لے جائیں گے جہاں بچوں کے ددھیالی اور ننھیالی رشتے دار رہا کرتے تھے- یہ ایک چھوٹا سا خوشحال نگر نامی شہر تھا اور تقریباً ڈھائی سو کلو میٹر کی دوری پر تھا- اس پروگرام کے بنتے ہی انہوں نے موبائلوں پر خوشحال نگر میں تمام رشتے داروں کو اپنی آمد کی اطلاع دے دی تھی- اس اطلاع سے نانا نانی اور دادا دادی کو تو خوشی ہوئی ہی تھی، دوسرے رشتے داروں نے بھی بڑی مسرت کا اظہار کیا تھا-
رشتے داروں کا گھر تقریبا تین سو کلومیٹر کے فاصلے پر تھا
رشتے داروں کا گھر تقریبا ڈھائی سو کلومیٹر کے فاصلے پر تھا
رشتے داروں کا گھر تقریبا پانچ سو کلومیٹر کے فاصلے پر تھا
یہ پیراگراف کس چیز کے بارے میں تھا
بھوتوں کے بارے میں
لڑائی جھگڑے کے بارے میں
ایک سفر کے بارے میں
